fbpx
خبریں

الیکشن کے جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: کور کمانڈرز کانفرنس

بدھ کو راولپنڈی میں 262 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں عام انتخابات 2024 کے حوالے سے کہا گیا کہ ’کسی کو بھی سیاسی سرگرمی کے نام پر تشدد کرنے کی، اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان فوج انتخابات میں ’آئینی مینڈیٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تحت تفویض کردہ ہدایات کے مطابق فرائض سرانجام دے گی۔‘

فورم کو انڈیا کی سرحدی خلاف ورزی اور ماورائے عدالت پاکستانی شہریوں پر حملوں کی مہم اور ریاستی سرپرستی میں ’دہشت گردی‘ کو جاری رکھنے پر بریفنگ دی۔

فورم نے اتفاق کیا کہ انڈیا کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور اس کا ’اصل چہرہ‘ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔

فورم نے فلسطین اور غزہ کے عوام کے لیے غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا اور تنازع کے انتہائی منفی نتائج اور خطے میں پھیلنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ مستقل جنگ بندی اور پائیدار حل کی فوری ضرورت کو متفقہ طور پر تسلیم کیا گیا۔

اسی سلسلے میں کے لوگوں کے حق خود ارادیت کے لیے ان کی حمایت کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق انصاف کی فراہمی تک کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

فورم نے عزم کا اعادہ کیا کہ ’پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دشمن قوتوں کے اشارے پر کام کرنے والے تمام دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے عناصر کے خلاف ریاست مکمل طاقت کے ساتھ نمٹے گی۔‘

کور کمانڈرز نے ’مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔‘


الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی ’بگڑتی‘ صورت حال کے پیش نظر اجلاس طلب کر لیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی کی صورت حال کا جائز لینے کے لیے جمعرات یکم فروری کو دن تین بجے اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق اس اجلاس میں وزیر داخلہ، سیکریٹری داخلہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان، پولیس سربراہان اور خفیہ ایجنسیوں کے نمائندوں کو بھی بلایا گیا ہے۔


باجوڑ میں فائرنگ سے قومی اسمبلی کا نوجوان امیدوار قتل، الیکشن کمیشن کا نوٹس

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں انتخابات میں قومی اسمبلی کے آزاد امیدوار ریحان زیب بدھ کو نا معلوم افراد کی فائرنگ سے جان سے گئے۔

انڈپینڈنٹ اردو کے اظہار اللہ سے گفتگو میں باجوڑ کے ضلعی پولیس سربراہ کاشف ذوالفقار نے ریحان زیب کی جان سے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک انتخابی کنوینشن میں ان پر فائرنگ ہوئی ہے۔ ’وہ کسی کنوینشن میں شریک تھے اور یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔‘

28 سالہ نوجوان امیدوار ریحان زیب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دیرینہ کارکن تھے اور آزاد حیثیت سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے آٹھ اور صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے سے امیدوار تھے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیف سیکریٹری اور آئی جی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وہ پی ٹی آئی کے نامزدہ امیدوار نہیں تھے لیکن ٹکٹ نہ ملنے کے بعد انہوں نے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ریحان زیب، باجوڑ سے تعلق رکھنے والے اسلام آباد میں مقیم صحافی نظام الدین کے اچھے دوست تھے۔

نظام الدین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ قبائلی اضلاع کے حوالے سے ہم نے یوتھ جرگہ کے پلیٹ فارم سے کام کیا تھا۔

نظام الدین نے بتایا کہ ‘بعد میں وہ پی ٹی آئی کے سرگرم کارکن تھے لیکن ان کو پارٹی کی جانب سے نامزد نہیں کیا گیا تھا تو انہوں نے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔‘

نظام سے جب پوچھا گیا کہ کیا حالیہ دنوں میں ریحان زیب نے کسی دھمکی یا خطرے کی بات تو نہیں کی تھی، اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات تو حالیہ دنوں میں ان سے نہیں ہوئی ہے۔

باجوڑ میں اس سے پہلے رواں ماہ کے اوائل میں بھی جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار کی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اس حملے میں وہ محفوظ رہے تھے۔


کچھ حلقوں میں بیلٹ پیپرز کی دوبارہ چھپائی، انتخابات پر کیا اثر پڑے گا؟

الیکشن  کمیشن نے انتخابی حلقوں میں بیلٹ پیپرز کی دوبارہ چھپائی کے مسئلہ پر بدھ کو ایک ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ جن حلقوں میں بیلٹ پیپر کی  دوبارہ چھپائی کرانا پڑ رہی ہے وہاں پر چھپائی کے سلسلہ کو ملک کے دیگر حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ اس کا دارومدار خصوصی سکیورٹی کاغذ اور وقت کی دستیابی کے ساتھ پرنٹنگ پریسوں کی استطاعت پر منحصر ہوگا اور اگر خصوصی سکیورٹی کاغذ مطلوبہ مقدار میں دستیاب نہ ہوا تو کمیشن کے پاس ان حلقوں میں انتخابات موخر کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں رہے گا۔

الیکشن کمیشن نے بیان میں کہا کہ اجلاس میں اس امر پر غور کیا گیا کہ کہ ایسے وقت کہ جب انتخابات کے لیے بیلٹ پیپرز کی طباعت مکمل کی جا رہی ہے، کچھ حلقوں میں دوبارہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کرانا پڑ رہی ہے جس کے لیے اس مرحلہ پر درکار خصوصی سکیورٹی کاغذ کی دستیابی اور بروقت چھپائی کی تکمیل ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔


امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی امریکی سائفر کے مقدمے میں 10 سال قید کی سزا پر کہا ہے کہ یہ پاکستان کی عدالتوں کا قانونی معاملہ ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں منگل کو معمول کی بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں ترجمان امریکی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’سابق پاکستانی وزیراعظم کے خلاف دائر کیے گئے مقدمات پر ہماری نظر ہے لیکن سزا پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ جیسا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں، ہم دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی جمہوری اصولوں، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے احترام کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔‘

میتھیو ملر نے کہا کہ ’سابق پاکستانی وزیراعظم کے خلاف قانونی چارہ جوئی ایک قانونی معاملہ اور ہم قانونی معاملہ پاکستانی عدالتوں پر چھوڑتے ہیں، لیکن یقینا ہم ایسا جمہوری عمل چاہتے ہیں جس میں تمام جماعتوں کی وسیع تر شرکت اور جمہوری اصولوں کا احترام ہو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے اندرونی معاملات کے متعلق ہمارا کوئی موقف نہیں ہے، جیسا کہ آپ نے ہمیں پہلے بھی کہتے سنا ہے، اور ہم پاکستان میں عہدے کے امیدواروں کے حوالے سے بھی کوئی موقف اختیار نہیں کرتے۔

’ ہم ایک آزاد، منصفانہ جمہوری عمل دیکھنا چاہتے ہیں، اور جب قانونی معاملات کی بات آتی ہے، تو یہ ایسے معاملات کا فیصلہ پاکستانی عدالتوں کو کرنا ہے۔‘

سابق وزیراعظم کو سزا سنائے جانے کے بعد پاکستان میں منصفانہ انتخابات کے متعلق سوال کے جواب میں میتیو ملر نے کہا ہم یقینی طور پر ایک آزاد اور منصفانہ انتخابات دیکھنا چاہتے ہیں، اور ہم نظر رکھیں گے کہ آئندہ 10 دنوں میں کیا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ مختلف حالات ہیں اور ہم نے ابھی تک پاکستانی قانونی عمل کے حوالے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا ہے۔

’بہتری کے لیے پاکستان میں ایسے شعبے ہیں جن کا ہم خیرمقدم کریں گے۔ لیکن ہم نے اس مخصوص کیس میں وہ اندازہ نہیں لگایا۔‘


 

مچھ حملے کے 17 زخمی ٹراما سینٹر منتقل، دو فوجی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا

مچھ کولپور فائرنگ میں اب تک 17 زخمیوں کو ٹراما سینٹر کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دو زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

ٹراما سینٹر کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ارباب کامران نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور تمام زخمیوں کے علاج و معالجے کے لیے ڈاکٹرز اور عملے کو الرٹ کر دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مچھ حملے میں جان سے جانے والے دو فوجی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔

30 سالہ لانس نائک رحمت اللہ ڈیرہ غازی خان کے رہائشی ہیں جبکہ 28 سالہ سپاہی محمد زمان ضلع ٹانک سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان دونوں اہلکاروں کی نماز جنازہ ایف سی بلوچستان کے کوئٹہ میں واقع ہیڈ کوارٹر میں ادا کی گئی جس میں مقامی افراد نے بھی شرکت کی۔

بعد ازاں ان کی لاشیں فوجی اعزازات کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کو بھیج دی گئیں۔


فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی تنظیم نو اور ڈیجیٹلائزیشن کی منظوری

پاکستان کی نگران وفاقی کابینہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی تنظیم نو اور ڈیجیٹلائزیشن کی منظوری دے دی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ منظوری وفاقی کابینہ کے اسلام آباد میں نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی صدارت میں 30 جنوری 2024 کو ہونے والے اجلاس کے دوران ریونیو ڈویژن کی سفارش پر دی گئی۔

منظور شدہ اصلاحات کے تحت:

  • ریونیو ڈویژن میں فیڈرل ٹیکس پالیسی بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔
  • بورڈ قومی ٹیکس پالیسی کی تشکیل، محصولات کے اہداف کے تعین اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے کو یقینی بنائے گا۔
  • وفاقی وزیر خزانہ فیڈرل ٹیکس پالیسی بورڈ کے چیئرمین ہوں گے جبکہ وفاقی سیکریٹری خزانہ، ریونیو اور تجارت، چیئرمین نادرا اور متعلقہ محکموں کے ماہرین بورڈ کے ممبر ہوں گے۔
  • کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو کے محکمے الگ کیے جائیں گے اور ان کی سربراہی متعلقہ کیڈرز کے ڈائریکٹر جنرل کریں گے۔
  • دونوں ڈی جی اپنے اپنے محکمے کے ادارہ جاتی، اقتصادی اور آپریشنل معاملات کے لیے مکمل طور پر مجاز ہوں گے۔ وہ ڈیجیٹلائزیشن، شکایات کے حل اور شفافیت کے لیے بین الاقوامی سطح پر اختیار کیے گئے اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔
  • ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز کے لیے الگ الگ نگرانی بورڈ ہوں گے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ماہرین کی تقرری کرتے ہوئے مفادات کا تصادم نہیں ہونا چاہیے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے ضروری قانون سازی کے لیے اصلاحات کی سمری آئندہ منتخب پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق منگل کو اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں، وزیر خزانہ اور محصولات، ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ ایف بی آر کی تنظیم نو اور ڈیجیٹلائزیشن سے ملک ٹیکس بیس اور محصولات کی وصولی بڑھانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب کم ہو رہا ہے، ایف بی آر ٹیکس / جی ڈی پی کا تناسب 2022/23 میں بمشکل 8.5 فیصد رہا، جب کہ ملک کی ٹیکس کی گنجائش بڑی حد تک جی ڈی پی کے 22 فیصد کے لگ بھگ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد بمشکل 23 لاکھ ہے۔ کمرشل اور صنعتی بجلی کے صارفین کا 0.8 فیصد کارپوریٹ ٹیکس فائلرز ہیں، اور جی ایس ٹی رجسٹرڈ ادارے 14 لاکھ ٹیکس دہندگان میں سے بمشکل 13 فیصد ہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button