fbpx
خبریں

الیکشن ریل ریل میں: عوام کو طبی سہولیات میں بہتری کی کوئی امید نہیں

ملتان سے کراچی کی طرف روانگی کے دوران انڈپینڈنٹ اردو کی انتخابات 2024 کی ’ریل ریل میں‘ سیریز کی یہ قسط لکھی جا رہی ہے۔ آگے سمندر ہے، اس کے بعد موقع نہیں ملنے والا کہ پاکستان کے اہم ترین مسئلے یعنی صحت عامہ کے شعبے پر بات کی جا سکے۔

یہاں ایک بنیادی تصور واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ریاست عوام کو علاج معالجے کی سہولیات ایک حد تک دینے کی پابند ہوتی ہے۔

امریکہ اور یورپ میں بھی دیکھیں تو عوام صحت کے نظام سے شاکی دکھائی دیں گے، کئی کئی ماہ آپریشن کی باری نہیں آئے گی، پرائیویٹ پریکٹس اتنی مہنگی ہو گی کہ امیر لوگ بھی کنگال پنے کی شکایت کریں گے، وہی دوائیں جو ترقی یافتہ ممالک میں کئی سو ڈالر کی ملتی ہیں، پاکستان اور انڈیا میں کئی گنا کم ریٹ پر رجسٹر کی جاتی ہیں، کیوں؟

عوام کی اوسط آمدنی کے حساب سے، یہ بین الاقوامی اصول ہے۔

تو مسئلہ کہاں ہے؟ مسئلہ ’حد‘ کا ہے، جو پاکستان میں ڈیفائن (واضح) تو ہے لیکن دھندلا چکی ہے۔ مسئلہ اوسط آمدنی ہے، جو بجلی گیس کے بل دینے میں خرچ ہو جاتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرکاری ہسپتال موجود ہیں، انتہائی جدید مشینری بھی ہے، علاج مفت اب بھی ہوتے ہیں لیکن یہ سب بڑے شہروں کو اور اپروچ رکھنے والوں کو ملتا ہے۔

دور دراز علاقوں میں، ان قصبوں دیہاتوں میں کہ جہاں کا نام بھی آپ نے سنا نہیں ہو گا وہاں منہ اٹھا کے اگر عام آدمی جاتا ہے تو وہ یہی سب شکایتیں کرتا ہے جو اس ریل میں ہم سے مسافروں نے کیں۔

یہی وہ دھندلاہٹ ہے، یہی وہ حد ہے جسے واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں ہر منظر میں اپنی ناک دکھائی دیتی ہے۔ جس کی آنکھ ہو گی، اس کی ناک بھی ہو گی۔ کچھ منظر لیکن دوسروں کی آنکھ سے دیکھنا اور ان کے منہ سے سن کر قبول کرنا پڑتے ہیں، جمہوریت اسی کا نام ہے۔ یہ بھی پاکستان ہے، تم بھی پاکستان ہو، ہم بھی پاکستان ہیں!

اس پاکستان میں عوام کو بہتری کی، بھلائی کی، طبی سہولیات کے بہتر ہونے کی، کوئی بھی امید نہیں ہے۔ ان کی بلا سے بوم بسے یا ہما رہے، وہ تن بہ تقدیر ہیں اور آگے، آف کورس سمندر ہے!

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button