fbpx
خبریں

’اسلام آباد سے تلخ یادیں لے جا رہے ہیں‘: بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ نے منگل کو بلوچ افراد کی مبینہ نسل کشی اور جبری گمشدگیوں کے خلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دو ماہ سے جاری احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں جبری طور پر گمشدہ افراد کے لواحقین کا یہ دھرنا 61 روز سے جاری تھا جسے 23 جنوری کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ’اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے 27 جنوری کو کوئٹہ میں ایک جلسے کا انعقاد کریں گے۔‘

ماہ رنگ بلوچ نے اسلام آباد پریس کلب کے باہر لگائے گئے کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’تحریک کے اگلے مرحلے میں خطے کی مظلوم عوام کو متحرک کر کے اپنے ساتھ روابط اور اتحاد کو بڑھانے کے اقدامات اور مشترکہ جدوجہد کریں گے۔‘

اس موقع پر ماہ رنگ بلوچ نے حکومت کے رویے پر مایوسی کا اظہار کیا اور مذاکراتی کمیٹی کے بیان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مذاکرات کے دوران کہا کہ آپ کے لوگ ہماری حکومت کے دوران لاپتہ نہیں ہوئے جو کہ درست بات نہیں۔ اس نگران حکومت کے دور میں بھی لوگ لاپتہ ہوئے ہیں۔‘

ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ’ہم ریاست کے خلاف نہیں ہیں۔ ہمارے تو مطالبات ہی ریاست سے ہیں۔ اسلام آباد میں جو ہم پر بیتی وہ تمام تلخ یادیں اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔‘

دوسری جانب نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے کہا تھا کہ بلوچستان سے آنے والے بلوچ مظاہرین سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’حکومت بلوچ مظاہرین کے مطالبات کی فہرست، مذاکرات کے وقت اور مقام کا انتظار کر رہی ہے۔‘

مرتضیٰ سولنگی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ان کی خواہش ہے کہ مظاہرین عزت، وقار اور سلامتی کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جائیں اور مزید مذاکرات اسلام آباد میں نہ ہوں۔‘

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لانگ مارچ کی قیادت کرنے والی ماہ رنگ بلوچ نے اقوام متحدہ کی ورکنگ کمیٹی سے غیر جانبدارانہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس معاملے پر ماہ رنگ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ ہم صورت حال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔‘

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے اس تحریک کا آغاز اس وقت ہوا جب صوبہ بلوچستان کے علاقہ کیچ سے تعلق رکھنے والے بالاچ بلوچ سمیت چار افراد کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ایک کارروائی کے دوران مبینہ طور پر مارے گئے تھے۔ بالاچ کے مبینہ قتل کے بعد ان کے لواحقین نے تربت میں میتوں سمیت دھرنا دیا۔ تاہم یقین دہانی کے باوجود اس واقعہ کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

یہ مظاہرہ بلوچستان کے علاقے تربت سے بلوچ نوجوان بالاچ بخش کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف شروع کیا گیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

20 دسمبر کو اسلام آباد پہنچنے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لانگ مارچ کے مظاہرین بھی اس کیمپ میں شامل ہو گئے تھے۔

یہ کیمپ بلوچ لاپتہ اور جبری طور پر گمشدہ افراد کی واپسی کے لیے نیشنل پریس کلب کے باہر لگایا گیا تھا۔

اسلام آباد پولیس نے مظاہرین کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا جس میں خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس دوران اسلام آباد پریس کلب کے باہر پہلے سے موجود بلوچ مظاہرین کے ٹینٹ بھی اکھاڑ دیے گئے۔

جب یہ مظاہرین اسلام آباد پہنچے تھے تو ان کے خلاف پولیس نے کریک ڈاؤن کر کے 283 مردوں اور تقریبا 100 خواتین کو گرفتار یا تحویل میں لیا گیا تھا، جس کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور پھر ان کی رہائی کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور تمام افراد کو رہا کر دیا گیا تھا۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button