fbpx
خبریں

استحکام پاکستان پارٹی: سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے پنجاب میں کتنی سیاسی اہمیت حاصل کر پائی؟

پاکستان تحریک انصاف سے راہیں جدا کر کے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) پنجاب میں مسلم لیگ ن کے ساتھ ڈیمانڈ کے مطابق سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی  توقع پوری نہ ہو سکی۔

جس طرح گذشتہ سال آئی پی پی لاہور میں بنانے کا اعلان کیا گیا تھا اور پی ٹی آئی کے کئی اہم سابق اراکین اسمبلی نے فوری شمولیت کا اعلان کیا اسی طرح ستحکام پاکستان کی قیادت کے دعوے پورے نہیں ہو سکے۔

آئی پی پی نے مسلم لیگ ن سے پنجاب کے قومی و صوبائی اسمبلی کے 41 حلقوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کیا تھا۔

اس حوالے سے جہانگیر ترین اور شہباز شریف کے درمیان ملاقات بھی ہوئی لیکن جب ن لیگ نے اپنے امیدوار فائنل کر کے ٹکٹیں تقسیم کیں تو صرف چار قومی اور تین صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر آئی پی پی کے امیدواروں کے مقابلے میں امیدوار کھڑے نہیں کیے۔

جہانگیر ترین کو لودھراں کے بجائے ملتان سے این اے 149 سے متفقہ امیدوار بنایا گیا جہاں ن لیگ گذشتہ دو انتخابات میں شکست کھا چکی ہے۔

علیم خان کو لاہور کے حلقہ این اے 117 سے مشترکہ امیدوار بنایا گیا۔ پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 149، جو مریم نواز کے حلقہ این اے 119 کے نیچے ہے، پر بھی علیم خان کے مد مقابل امیدوار کھڑا نہیں کیا گیا۔

راولپنڈی سے این اے 54 میں آئی پی پی کے امیدوار غلام سرور خان کے مقابلہ میں ن لیگ نے کسی امیدوار کو ٹکٹ جاری نہیں کیا۔

آئی پی پی رہنما عون چوہدری کو بھی این اے 128 لاہور سے ایسی نشست پر متفقہ امیدوار بنایا گیا ہے، جہاں 2013 اور 2018 کے انتخاب میں ن لیگ شکست کھا چکی ہے۔

اس کے علاوہ استحکام پاکستان نے مجموعی طور پر 51 قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے ہیں، جبکہ شروع میں جہانگیر ترین نے اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت ملک بھر سے امیدوار میدان میں اتارے گی۔

اس حوالے سے استحکام پارٹی کے رہنما عون چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری ن لیگ سے قومی اسمبلی کی چار اور تین صوبائی نشستوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوئی ہے۔ میں بے حد مشکور ہوں ن لیگ کی قیادت خاص طور پر نواز شریف کا جنہوں نے لاہور میں ایڈجسٹ کیا اور اعتماد کیا۔ یہ باہمی اتفاق رائے تھا کہ جہاں جہاں روایتی حریف ہیں وہ جہاں سے بھی چاہیں لڑ سکتے ہیں اور جیت کر ہمارے ساتھ آجائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے ہمیں یہ سوچنے کی بجائے کہ ہمارے ساتھ وعدے پورے ہوئے یا نہیں کامیابی کے لیے آگے بڑھنا چاہیے اور جیت کر ایک مضبوط حکومت بنانے کی طرف توجہ دینا چاہیے۔ ہم بیشتر نشستوں پر کامیاب ہوکر مسائل حل کرنے والی حکومت بنانے کی پوزیشن ہوں گے۔‘

خیال رہے کہ پی ٹی آئی چھوڑ کر آئی پی پی میں شامل ہونے والے فرخ حبیب فیصل آباد سے اس بار الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے، جب کہ فواد چوہدری نے آئی پی پی کی لانچ کے دن تقریب میں شرکت کی تھی مگر اب وہ بھی الیکشنز سے باہر ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈٹ اردو نے لاہور کے حلقہ این اے 128 میں حالات کا جائزہ لیا جہاں ن لیگ اور آئی پی پی کے متفقہ امیدوار عون چوہدری کے علاوہ پی ٹی آئی کے امیدوار بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ بھی میدان میں ہیں۔

اس حلقہ کا سابقہ نمبر 130 تھا اور تحریک انصاف کے شفقت محمود  گذشتہ دو انتخابات میں ن لیگ کے خواجہ احمد حسان کو شکست دے چکے ہیں۔ لیکن اس بار دونوں امیدوار میدان میں نہیں ہیں۔

ن لیگ نے خواجہ احمد حسان جبکہ پی ٹی آئی نے شفقت محمود کو ٹکٹ جاری نہیں کیا۔

اس حلقہ کے لوگوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ملے جلے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ کوئی پی ٹی آئی کو مسائل کے حل کی امید پر ووٹ دینے کا خواہش مند ہے تو کوئی معاشی بہتری اور مہنگائی میں کمی کے لیے مسلم لیگ ن کو ووٹ دے کر اقتدار میں لانے کے دعوے کر رہا ہے۔

اس حلقہ میں ووٹرز کی تعداد چھ لاکھ سے زائد ہے۔ یہ حلقہ ماڈل ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن نصیر آباد، گلبرگ، اچھرہ، سمن آباد اور دیگر علاقوں پر مشتمل ہے۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button