fbpx
بلاگ

قاتل الفاظ / ابصار فاطمہ

قاتل الفاظ / ابصار فاطمہ

“اللہ کی شان تنکے میں جان”
وہ اسکول میں داخل ہواتوکسی جانب سے آواز آئی۔
دو قدم چلا ہوگا کہ دوسری طرف سے آواز آئی “ارے جیب میں دو پتھر رکھ لیا کر بھائی کسی دن اڑ جائے گا۔”
ماتھے پہ آتا پسینہ بھی صاف کرنے کی ہمت نہیں تھی قدم تیز کرنے کی کوشش کی مگر لگتا تھا پیروں میں جان ہی نہیں تھی بمشکل کلاس تک پہنچا۔
یہ روز کا معمول تھا ایسا نہیں تھا کہ اس کے دوست نہیں تھے یا وہ کوئی ڈرپوک یا پڑھائی میں نکما لڑکا تھا مگر ہر کوئی اس کے دبلے پن پہ کوئی جملہ کسنا جیسے فرض سمجھتا تھا حد یہ کہ اساتذہ بھی اس فقرہ بازی میں شامل ہوتے وہ ہر بار سوچتا اب کسی کی بات کو دل پہ نہیں لے گا مگر ہر بار اپنا مذاق اڑنے پہ اس کا سارا اعتماد گم ہوجاتا تھا۔ مگر اگلی صبح کچھ عجیب ہوا وہ داخل ہوا اور پورا رستہ کسی نے اسے کچھ نہیں کہا بلکہ اسکول کچھ سنسان سنسان سا لگا.  لوگوں کی ڈھونڈتے اس کی نظریں گراونڈ کے ایک درخت کے نیچے لگے ایک بینچ پہ جاکر ٹھہر گئیں جہاں ایک چھوٹا سا مجمع لگا ہوا تھا ۔  دور سے ہلکی ہلکی قہقہوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ وہ سمجھا صبح صبح کوئی کمپنی والے آئے ہوں گے اپنی پراڈکٹ کی پروموشن کے لیئے عموما وہ کوئی کامیڈین یا میجیشن وغیرہ کو لے آتے تھے۔ مگر قریب پہنچ کر اندازہ ہوا کہ دائرے کے بیچ کوئی بڑا آدمی یا عورت نہیں ایک بچہ ہی کھڑا تھا بہت موٹا اتنا موٹا کہ اس کی بھی ہنسی نکل گئی۔
“ہاہاہا اس میں کیا اس کے ابو نے ہوا بھروائی ہے۔ یا غبارے کو بیٹا بنا لیا۔”
اس نے غیر ارادی طور پہ پاس کھڑے لڑکے سے کہا۔ دونوں زور سے قہقہہ مار کے ہنس دیئے اس کی ہنسی میں لطف بھی تھااور ایک عجیب سی خوشی جیسی دشمن سے پرانا بدلہ لے کر ملتی ہے۔ اس کو دوگنی خوشی ملی تھی ایک تو اسکول خاص کر کلاس کے باقی طلبہ کی توجہ اب اس موٹو پہ تھی اور دوسری یہ کہ اب کوئی تھا جس کا وہ بھی مذاق اڑا کر اپنا غصہ نکال سکتا تھا۔ نئے آنے والے لڑکے کے مٹاپے کے سامنے اس کا دبلا پن کچھ بھی نہیں تھا۔ اسے یقین تھا کہ اب اس کا مذاق اڑنا کم ہوجائے گا۔ وہ کوشش کرکے زیادہ سے زیادہ موٹے کے قریب رہنے لگا تاکہ کوئی جیسے ہی اس کے دبلے پن پہ کچھ بولتا وہ اس کا دھیان موٹے کی طرف کروا دیتا پھر وہ مل کر اس موٹو کا مذاق اڑاتے۔ ہر ایک نے موٹو کو پنچنگ بیگ سمجھ لیا تھا گھر سے پٹ کر آنے والا، ٹیچرزسے غلطی پہ بار بار بے عزتی سہنے والا، لوگوں کے بے توجہی کا شکار غرض سب، موٹو سے اپنے مسئلوں کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔ کیونکہ موٹو کے گھر سے کوئی کبھی کمپلین لے کر نہیں آیا۔ اور موٹو میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کلاس ٹیچر یا پرنسپل سے شکایت کرسکتا اس لیے سب بے خوف ہو کر موٹو کا مذاق اڑاتے اور اس کی تاثرات دیکھ کر خوب لطف اٹھاتے۔
نیا مہینہ شروع ہونے والا تھا اور ٹیچر نے نیا ٹاپک دیا “بلیئنگ bullying” پھر تھوڑا وضاحت کرنی شروع کی کہ
“دیکھیں بلئینگ کا مطلب ہوتا ہے مذاق اڑانا کسی کی رنگت پہ قد پہ جسامت پہ فقرے کسنا جیسے موٹو سوری معیذ کو سب اس کے موٹے ہونے پہ چڑاتے ہیں تو ایسا کرنا بلئینگ کہلاتا ہے اس کا نتیجہ بہت خطرناک ہوسکتا ہے بچے خودکشی بھی کرلیتے ہیں مگر میعذ آپ ایسی کوشش مت کیجیے گا کہیں چھت ہی نا گر جائے۔”
ٹیچر یہ کہہ کر جھوٹی سی ہنسی ہنس دیں. ٹیچر آگے پتا نہیں کیا کیا بتاتی رہیں مگر معیذ کا دماغ سائیں سائیں کرتا رہا۔ اگلے دن معیذ اسکول نہیں آیا بلکہ اخبار میں خبر آئی
“ساتویں کلاس کا شاگرد ٹیچر کے معمولی مذاق پہ ناراض، گلے میں پھندا ڈال کر دنیا چھوڑ گیا۔”

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button
نوٹیفیکیشن فعال کریں OK No thanks
Close

Adblock Detected

برائے مہربانی ایڈ بلاکر ختم کیجئے