fbpx
شخصیت و فن

“اگلی بار “ڈاکٹر اویس قرنی / نصرت نسیم

“اگلی بار “ڈاکٹر اویس قرنی / نصرت نسیم

“اگلی بار “ڈاکٹر اویس قرنی
نصرت نسیم
بہت سال پہلے مستنصر حسین تارڑ کے ایک کالم میں اویس قرنی کےبارے میں پڑھا جس میں انہوں نے قرنی کے اس مقالے کی جو انہوں کرشن چندر کے حوالے سے اپنے ایم فل کے لیے لکھا تھا۔بے حد تعریف کی ۔مستنصر حسین تارڑ کی اتنی زیادہ تعریف سے چونک گئ اتنا اچھا لکھتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ایک ایک سے اس کے بارے میں پوچھا کی بالآخر شکیل احمد نایاب نے ان کا فون نمبر دیا۔بعد ازاں ڈاکٹر فصیح الدین کے اخبار “خپل واک “میں لفظوں کی زنجیر نے تو گویا جکڑ لیا ۔ایک ایک جملہ اپنی جگہ داستان ۔منفرد لب و لہجہ اورطرز تحریر جس کی میں گرویدہ ۔۔۔۔
مجھے ہمیشہ سے محمد حسین آزاد کا اسلوب پسند مقفع و مسجع نثر گویا نثر میں شاعری بعدکےزمانوں میں رشید احمد صدیقی کی گنج ہاے گراں مایہ “کہ ایک ایک جملہ شعر کی طرح تشریح طلب پھر مختار مسعود کی نثر اور منفرد اسلوب نگارش کہ دل میں اتر جائے ۔اورسوچ کے نئے درواکرجاے ۔تو ایسے میں لفظوں کی زنجیر پڑھ کر لگا کہ قرنی بھی اسی قبیلے کا فرد ہے مگر کسی کامقلد نہیں افسانے میں نئ روایت کا پیشرو
اگلی بار “اویس قرنی کی سعادت مندی اورمحبت کہ انہوں نے مجھے اپنے افسانوں کا یہ مجموعہ ارسال کیا دو ماہ پیشتر اس کو بہت جستہ جستہ اور سکون سے پڑھا ۔اورشکریہ وتبصرہ نہ کر پائی کہ تبصرہ تو اس پر ثقہ نقاد ہی کر سکیں گے میں تو اظہار تشکر اور اپنے پسندیدہ چند پہلوؤں پر بات کرونگی
افسانہ قرینے کی روایت، قلم کی تلاوت اور قلم کار کی عبادت ہے
افسانہ لفظ کاجادو اور درد کا دارو ہے
افسانہ بے حسی کا احساس اور احساس کی بےحسی ہے
افسانہ زوایے کی نی سمت ہے
افسانہ آگہی کا پیمانہ اور پیمانے کی آگ ہے
افسانہ تہذیب کی منقبت اورتمدن کی مثنوی ہے۔
افسانہ جذبات کی سہیلی اورمناظر کی نیرنگی ہے
افسانہ جگنووں کی بارات ہے
افسانہ سطر سطر ترنم ریزی اورلہر لہر سمفنی ریزی ہے ۔
افسانہ کسی کی آنکھوں میں ساحل کی تلاش ہے
افسانہ جبر کے لمحوں میں سلی ہوی زبان سے نکلنے والی ازان حق ہے
مندرجہ بالا جملوں سے آپ نے قرنی کےمنفرد انداز نگارش کا اندازہ کر لیا ہو گا ۔اویس کو پڑھنا مگراس کی گہرای کو پانا یاسمجھنا کسی عام قاری کے بس کی بات نہیں اس کے لیےبرصغیر کی تاریخ بلکہ عالمی تاریخ ادبی تاریخ

ثقافتی وتہزیبی پس منظر سب سےآگاہ ہوں توحظ اٹھا سکتے ہیں ۔وگرنہ پڑھ تو لیں گے مگرسمجھنے کے لطف و خوشی سے محروم رہیں گے
مثلا ”
افسانہ بلی ماراں کے غربت کدے میں شب غم کا جشن منانے والی عظمت ہے جس نے دہلی کالج کے دروازے پر ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنےگھوڑے کے باگ واپس موڑتے ہوے رہتی دنیا تک استاد کی عزت و توقیر کی ایسی مثال قائم کی جس کا بدل مشکل ہے
اب ان چند سطروں کو وہی سمجھ پائیں گے جنہیں یہ واقعہ یاد ہوگا کہ کیسے غالب کالج کے دروازے سے اس بنا پر واپس پلٹ آتے ہیں کہ پرنسپل نے باہر آکر ان کا اسقبال کیوں نہیں کیا ۔یہ اور اس طرح کے بہت سے جملے جو اپنی جگہ ایک پوری داستان ہیں۔ایک خاص پس منظر لیے ہوے۔ایک اور جملہ ملاحظہ کیجیے
افسانہ استغاثوں سے بھری ہوئی وہ بوتل ہے جسے منٹو نے ایک ہی سانس میں پی کر میخانہ ء صداقت کی لاج رکھ لی ۔
افسانہ وہ مقدس استھان ہے جہاں پہنچ کر جلیانوالہ کے شہید امر ہو گئے۔
قرنی نے ایک نئ ڈگر نئ راہ کا انتخاب کیا ہے ۔جہاں لسانی سطح پر لفظ ومعنی کے نئے دیپ جلا ے ہیں۔کردار نگاری و منظر نگاری کے نئے چراغ روشن کئے ہیں کہ دل ودماغ کو معطر ومنور کردیا ہے مجھے ایسالگا کہ زہن کے پردہ ء سکرین پربھولی ہوی تاریخ و تاریخی واقعات کسی فلم کی طرح چلنے لگے
اگلی بار کو پڑھنے میں مجھے کافی دیر لگی کہ ایک افسانے کے اندر کئ افسانے ہیں کئ کہانیاں
کہانی درکہانی بلکہ اکثر یک سطری لائن اپنی جگہ پوری داستان تھی جملہ تو خیر کبھی ایک لفظ بھی پوری کہانی سنا گیا مثال کے طور پر
اس کے بیٹے نے بی آر بی لکھا اور میزائل ایک دوسرے کو داغنے لگے ۔
کارگل لکھا اورکچھاروں میں ہلچل مچ گئی ۔
9/11 لکھااورٹریڈ سنٹروں کا ملبہ پہاڑوں پر گرا دیا ۔
کشمیر لکھا اوربرف زاروں میں قبرستان آباد ہو گئے ۔
غدر لکھااوررنگین قلعہ رنگون ہو گیا ۔
لفظ نے جلیانوالہ لکھا اورجنرل ڈائر نےاپنی سلطنت کا دھڑن تختہ کر دیا ۔
ان کے افسانوں میں شاعری کے تمام لوازمات پاے جاتےہیں خوبصورت تشبیہات استعارے صنعت تضاد اشارے کنائے غرض تمام شعری لوازمات ،جنہیں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ نثر میں شاعری کر رہے ہیں ۔
کسی پر لفظ الہام بن کر اترے تو کسی پر ابہام
لفظ ہی مقدس تھا لفظ ہی مغلظ
لفظ عداوتوں میں دخیل تھے اور عدالتوں میں وکیل
لفظ ساحر تھا اور لفظ مسحور
لفظ خالق تھا اور لفظ مخلوق
جو ڈولی میں نہیں ملتے ہولی پر ملتے ہیں اور ہولی پچکاری اڑاے بغیر رنگ نہیں جماتی ۔
اگلی بار کے اس مجموعے میں تمام افسانے اپنی کردار نگاری، منظرنگاری زبان وبیان کے حوالے سے دیکھیں تو بےاختیار انیس کامصرع ذہن میں آتا ہے کہ
ایک پھول کا مضمون ہو تو سو رنگ سے باندھوں
سو قادر الکلامی، وسعت بیاں اور رفعت خیال کانمونہ ہیں یہ تمام افسانے ۔جنازوں کی موت مٹتی ہوی قدروں کا نوحہ ہے تو اگلی بار ایک بالکل نئے ذائقے اورطرز کا افسانہ ہے۔اسی طرح حلقہ میری زنجیر کا بریکٹس کے آگے بریکٹس کے پیچھے اورادھوراکالم خاصے کی چیز ہیں۔منفرد اسلوب بیاں رکھنے والے افسانے کو ایک نئ جہت نئ راہ کے امام اورزبان وبیان کو نئے جگنو نئے چراغ روشن کرنے والے اویس قرنی ابھی کم عمر ہیں اللہ سبحان و تعالٰی ان کے کام اورعمر میں برکت دے اورکامیابی وکامرانی کی نئ منزلیں واقبال مندی ان کا مقدر ٹہرے آمین ثم آمین

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button
نوٹیفیکیشن فعال کریں OK No thanks
Close

Adblock Detected

برائے مہربانی ایڈ بلاکر ختم کیجئے