fbpx
خبریں

استور میں ضمنی الیکشن، مسلم لیگ ن، پی پی اور پی ٹی آئی میں کانٹے کا مقابلہ

گلگت بلتستان : گلگت بلتستان اسمبلی کی نشست استور ون پر ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ جاری ہے، مسلم لیگ ن، پی پی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان کانٹےکا مقابلہ متوقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ تیرہ استور میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ جاری ہے، مسلم لیگ ن، پی پی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان کانٹےکا مقابلہ متوقع ہے۔

اس نشست پر سات امیدوار مدمقابل ہیں، جن میں پی ٹی آئی کے امیدوار خالد خورشید، پیپلزپارٹی کے عبدالحمید، پی ایم ایل ن رانا فرمان ، عنایت اللہ میرجےیو آئی ف ،عطااللہ ٹی ایل پی، آزاد امیدوارعبدالقیوم، دادا سرکار،محمد شفیع شامل ہیں

حلقے میں کل چھپن پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں، جن میں مردوخواتین ووٹرزکی تعداد بتیس ہزارسےزائدہے جبکہ تیرہ پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور بارہ کو حساس قراردیا گیا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

خیال رہے گلگت بلتستان اسمبلی کا ایوان24جنرل نشستوں پرمشتمل ہے، اسمبلی خواتین کی6،ٹیکنوکریٹس کی3نشستوں سمیت مجموعی طورپر33 ارکان پرمشتمل ہے۔

نومبر 2020 الیکشن میں جی بی اسمبلی میں مخصوص نشستوں سمیت پی ٹی آئی کے 20 ارکان شامل تھے جبکہ پیپلزپارٹی کے 4 ،ن لیگ کے 3، ایم ڈبلیو ایم کے 3 اور 1 جے یوآئی ف،1 آزاد رکن شامل تھا۔

4 جولائی 2023 کو وزیراعلیٰ خالد خورشید جعلی ڈگری کیس میں نااہلی قرار پائے ، جس کے بعد نشست خالی ہوئی تھی، 18 اگست 2023 کو وزیراطلاعات فتح اللہ خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم دیا گیا، اس کےبعدگلگت بلتستان اسمبلی میں پی ٹی آئی کےارکان کی تعداد 18 رہ گئی۔

18 اگست 2023 کو الیکشن ٹریبونل نے پیپلزپارٹی کے جمیل احمد کو کامیاب قراردیاگیا ، اس کے نتیجے میں جی بی اسمبلی میں پیپلز پارٹی ارکان کی تعداد 4 سے بڑھ کر 5 ہوگئی۔

خالد خورشید کی نااہلی کے بعد پی ٹی آئی کے 4 گروپ سامنے آئے تھے ، فارورڈ بلاک، ہم خیال گروپ، ناراض گروپ اور پارلیمانی گروپ کےنام سامنےآئے۔

پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے حاجی گلبرخان 4 جولائی 2023 کو وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ، حاجی گلبر پی پی، ن لیگ، جے یو آئی کے 19 ووٹ لیکرمخلوط حکومت کے وزیراعلٰیٰ بنے۔

استورکا آج ہونے والا ضمنی انتخاب پیپلزپارٹی کے لیے زیادہ اہمیت رکھتاہے ، استورکی نشست ملنے کی صورت میں پیپلز پارٹی کےارکان کی تعداد6ہوجائے گی اور پی پی، پی ٹی آئی ہم خیال گروپ سے ملکر وزیراعلیٰ کیخلاف عدم اعتماد کی پوزیشن میں ہوگی۔

Comments




Source link

Facebook Comments

Back to top button