fbpx
خبریں

9/11 کے ملزم رمزى بن الشيبه گوانتاناموبے مقدمے کے لیے فٹ نہیں: طبی بورڈ

امریکہ کے سرکاری میڈیکل بورڈ نے کہا ہے کہ نائن الیون حملوں کے منصوبہ ساز ملزمان میں سے ایک رمزى بن الشيبه ذہنی طور پر اس قابل نہیں کہ وہ گوانتاناموبے جیل میں مقدمے کا سامنا کریں یا اپنے دفاع میں وکلا کی مدد کریں۔

رمزى بن الشيبه کا مقدمہ 2008 سے چل رہا ہے۔ ان پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے جرمنی میں سیل کو منظم کرنے، امریکی فلائٹ سکولوں پر تحقیق کرنے، نائن الیون کے 19 مرکزی ہائی جیکروں میں سے کچھ کو رقم فراہم کرنے، اور افغانستان میں القاعدہ کے رہنماؤں کو معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے۔

اپریل میں ایک فوجی جج نے اس کیس میں ذہنی صحت کے تین ماہرین کو حکم دیا تھا کہ وہ رمزى کی حالت کا جائزہ لیں کیونکہ امریکی حکام نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور تین دیگر افراد سمیت ان کے خلاف مقدمہ چلا رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ملٹری میڈیکل بورڈ نے جمعے کو ایک خفیہ رپورٹ جمع کروائی، جس کے مطابق رمزى کو ’نفسیاتی مسائل‘ کے ساتھ پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر ہے۔

یہ اطلاع مذکورہ ادارے کو وہ میڈیکل رپورٹ دیکھنے والے تین افراد نے دی۔ یہ طبی نتائج رمزى کو زیر سماعت مقدمے کے دوران دیگر چار مبینہ منصوبہ سازوں سے الگ کرنے، اور علیحدہ قانونی کارروائی کے لیے اس کیس کے جج (کرنل میتھیو این میک کال) کو قائل کر سکتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے وکلا نے الزام لگایا ہے کہ امریکی حراست میں انہیں آوازوں، وائبریشن اور نفسیاتی طور پر دیگر غیر مستحکم کرنے والی تکنیکوں سے ہراساں کیا گیا۔

اپنے کیپٹل پراسیکیوشن کے دوران انہوں نے برہمی کے ساتھ مقدمے سے پہلے کی سماعتوں میں خلل ڈالا تھا۔

دی رینڈیشن پروجیکٹ کے مطابق ان کو ستمبر 2002 میں کراچی سے پکڑا گیا اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں افغانستان، اردن، پولینڈ اور رومانیہ میں امریکہ سے منسلک جیلوں میں قید کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں 2006 میں گوانتانامو جیل بھیج دیا گیا تھا۔

رمزى کے مقدمے میں پیچیدگیاں متنازع جزیرے کی جیل میں ہونے والا تازہ اضافہ ہیں۔

پچھلے ہفتے ایک فوجی جج نے ایک ایسے شخص کی قبولیت جرم کو مسترد کر دیا جنہوں نے ’یو ایس ایس کول بم دھماکے‘ کی منصوبہ بندی کرنے کا اعتراف کیا تھا کیونکہ یہ اعتراف سی آئی اے کے تشدد کا نتیجہ تھا۔




Source link

Facebook Comments

Back to top button