fbpx
تبصرہ کتب

تسطیر پر مختلف ادبی شخصیات کا تبصرہ

تسطیر پر مختلف ادبی شخصیات کا تبصرہ

تسطیر اردو ادب کا نمائندہ ادبی جریدہ ہے جو ممتاز شاعر اور ادیب نصیر احمد ناصر صاحب کی ادارت میں شائع ہوتا ہے۔ اسے بک کارنر شو روم جہلم سے شائع کیا جاتا ہے۔ تسطیر گیارہ شائع ہو چکا ہے۔ تسطیر کے بارے میں ممتاز ادیبوں اور شاعروں کی رائے شامل کی جا رہی ہے۔ اس سے نئے پڑھنے اور لکھنے والوں کو تسطیر کو جاننے اور سمجھنے میں آسانی ہو گی۔

اردو ادب کے بین الاقوامی استاد، ممتاز محقق، نقاد، مترجم اور شاعر ڈاکٹر تبسم کاشمیری “تسطیر” کے بارے میں لکھتے ہیں:

میری نظر میں ’’ تسطیر ‘‘ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس پرچے نے نئے تخلیق کاروں کی بہت حوصلہ افزائی کی ہے۔ ناصر صاحب جیسے منجھے ہوئے مدیر کی ادارت میں شائع ہونے والی تخلیقات کے غیر معیاری ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ میری یہ ہمیشہ سے عادت ہے کہ جب بھی مجھے کوئی پرچہ موصول ہوتا ہے تو میں سب سے پہلے فہرست دیکھتا ہوں جس سے مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ مجھے کیا کچھ پڑھنا ہے۔

اس کے بعد میری نظر نئے لکھنے والوں پر پڑتی ہے۔ میں بڑے لوگوں کو بعد میں پڑھتا ہوں اور نئے ادیبوں کی چیزیں پہلے دیکھتا ہوں۔ اس سے مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ نیا تخلیقی ذہن کن سمتوں میں سفر کر رہا ہے۔ اگر مجھے کچھ لوگوں کے کام اچھے لگیں تو میں بعد ازاں ان کو مسلسل دیکھتا رہتا ہوں۔

مشہور سکہ بند ناموں کو شامل کر کے پرچہ بک جاتا ہے اور اچھا ادب بھی مل جاتا ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ کسی پرچے کی تخلیقی قوت میں نئے ناموں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ ان ناموں کے بغیر ادب کی تعبیر ممکن نہیں ہو سکتی ہے اور ادب کا مستقبل کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔ تسطیر لائق تحسین ہے کہ وہ ادب کے مستقبل کی تصویر دکھا رہا ہے۔ شاعری کے میدان میں تسطیر نے ڈھیر سارے نام متعارف کروائے ہیں۔ یہ ایک حقیقی contribution ہے۔

تسطیر، نصیر احمد ناصر اور گلزار

” تسطیر” ملا اور آپ کی نظموں کا مجموعہ ملا “عرابچی سو گیا ہے”۔ آپ کی نظم کا شروع سے قائل ہوں۔ کتاب ہاتھ میں لے کر محسوس ہوا جیسے جدید نظم کی صدی آپ نے ہاتھوں پہ رکھ دی! تسطیر میں پھر ایک چھوٹی سی نظم دے کر آپ نے مجھے حیران کیا اور مرید کر لیا۔ اس بار خط کے ساتھ کچھ نظمیں بھیج رہا ہوں، دیکھ لیجیے گا۔ ستیہ پال آنند کا خط پڑھ کر جی بھر آیا۔ رضا صاحب نے دہلی جانے سے پہلے فون پہ مجھ سے بات کی تھی اور مجھ سے اکثر پنجابی میں بات کرتے تھے۔ مزا لیتے تھے۔ بمبئی سے لدھیانہ گئے تھے جہاں انہیں شرومنی آوارڈ ملا۔ وہاں سے دہلی تسریف لائے پدم شری آوارڈ کے لیے اور بس ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک مفصل خط بعد میں ضرور لکھوں گا۔ لیکن آپ کی کچھ نظموں پہ نظر پڑ گئی۔ سبحان اللہ۔

“بتا میری آنکھوں کی ازلوں میں ٹھہرے ہوئے نم

تجھے کن زمانوں کی نیندوں نے گھیرا ہوا ہے ۔۔۔۔”

” ۔۔۔۔۔ وہ جس نے سمندر کے بھیگے سفر میں کہا تھا

محبت جزیرہ ہے، دکھ بادباں ہے ۔۔۔۔۔”

 

ممتاز شاعرہ پروین طاہر “تسطیر” کے بارے میں لکھتی ہیں:

ادب ایک parallel یونیورس ہے جو انسان کو زندگی اور حقیقت کے متوازی ایسی پُر کیف اور نشاط انگیز زندگی فراہم کرتا ہے جو کسی بھی دوسرے ذریعے یا منابع سے ممکن نہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ” تسطیر” ایک رجحان ساز ادبی جریدہ ہے اور نصیر احمد ناصر ایک ایسے تخلیقی مدیر ہیں جو اس متوازی اور مسرت انگیز زندگی کا اہتمام بطریق احسن کرتے ہیں. مختلف ادبی تحاریک و رجحانات کو تسطیر نے اولیت دی اور غیر جانبداری سے ادبی موقف قائم کرنے کی گنجائش پیدا کی۔

نصیر احمد ناصر نہ صرف حال پر نظر رکھتے ہیں بلکہ مستقبل کے نقیب اور پیش بین بھی ہیں، یوں ان کی تازہ تر فکر اور ادب کے جدید اور تازہ ترین رجحانات کا نمائندہ “تسطیر” ایسا جریدہ ہے جس کے اثرات و ثمرات اس کے اجرا ہی سے محسوس کیے گئے اور ہمیشہ محسوس کیے جائیں گے۔ تسطیر واحد ادبی جریدہ ہے جس میں ادب کے ہر طبقہ ء فکر اور ہر عمر کے لکھنے والوں کی متناسب نمائندگی ہوتی ہے۔

ممتاز نقاد اور شاعر رفیق سندیلوی تسطیر کے بارے میں لکھتے ہیں:

” تسطیر”رجحان ساز پرچہ ہے جس نے ہمیشہ ادبی سطح پر ذہنی بیداری اور جمالیاتی آسودگی کے ساتھ ساتھ نئے خیالات کی تخم ریزی کا فریضہ بھی انجام دیا ہے۔ اس پرچے کے تشخص میں مدیر کی تخلیقی و تنقیدی نظر کا تحرک و تفاعل واضح طور پر نظر آتا ہے ۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments

Back to top button