fbpx
کالم

انھیں گرم پانی کی کیا ضرورت ہے /نصیر احمد ناصر

سچے واقعات

انھیں گرم پانی کی کیا ضرورت ہے

وہ اَسی (80) کی دہائی کا ابتدائی زمانہ تھا۔ میں اسلام آباد میں موجودہ خیبر پختون خواہ اور سابقہ این ڈبلیو ایف پی ہاؤس میں، جو اُس وقت زیرِ تعمیر تھا، بطورِ سائٹ انجنئیرکام کرتا تھا۔ اُس دور کے کچھ واقعات ایسے ہیں جو میں اب تک نہیں بھول سکا۔ ان میں سے کچھ کا تعلق سول بیوروکریسی سے ہے، کچھ کا فوجی حاکمہ سے اور کچھ کا نااہل سیاستدانوں سے۔

وہ ضیاالحق کا دورِ حکومت تھا، جو اس وقت ملک کے صدر بھی تھے اور چیف آف آرمی سٹاف بھی۔ صوبائی گورنر فوجی جرنیل تھے اور وزرا وہی چند پرانے سیاسی لوگ تھے جو ہر حکومت اور مارشل لا کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ واقعہ سول بیورو کریسی کے بارے میں ہے جو بظاہر ایک چھوٹا سا، معمولی سا واقعہ ہے لیکن دراصل اس مراعات یافتہ اور انتطامی امور میں سب سے زیادہ با اختیار طبقے کے مائنڈ سیٹ اور اس مخصوص مائنڈ سیٹ کے پروردہ پورے نطام کا عکاس ہے۔

کے پی کے ہاؤس میں عہدوں اور رتبوں کے حساب سے مختلف بلاکس تھے۔ گورنر، ملٹری سیکرٹری، وزیرِ اعلیٰ، صوبائی وزرا، سیکرٹریز اور دیگر مختلف گریڈز کے صوبائی افسران، سب کے لیے الگ الگ رہائشی حصے تھے، جو ایک لمبے کاریڈور اور مشترکہ سہولیات کے ایک مرکزی بلاک کے ذریعے آپس میں منسلک تھے۔

اس مشترکہ سہولیات یا کثیر المقاصد بلاک میں کچن، کھانے کا کمرہ، کانفرنسوں کے لیے بڑا ہال، لانڈری، ٹیلیفون ایکسچینج، کنٹرول روم، کیئر ٹیکر ہاؤس اور ایئر کنڈیشنگ پلانٹ، ہیٹنگ سسٹم وغیرہ تھے۔ سب سے آخر میں اور سب سے بڑا ایک سرونٹ بلاک تھا جو چھوٹے ملازموں، خدمت گزاروں اور حفاظتی عملے کے لیے تھا۔ دورانِ تعمیر میں نے دیکھا کہ سرونٹ بلاک کو گرم پانی مہیا نہیں کیا گیا جبکہ باقی سب بلاکس گرم پانی کے ایک مرکزی نطام سے منسلک تھے-

جس میں 24 گھنٹے گرم پانی رواں رہنا تھا۔ میرا نوجوان اور بیک وقت تکنیکی اور شاعرانہ ذہن ایک بنیادی ضرورت میں اس طبقاتی تفریق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اور ہر وقت اس کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ اُس زمانے میں اسلام آباد میں شدید سردی پڑتی تھی اور صبح صبح کہرا جما ہوتا تھا۔ ایک بار غالباً صوبے کے چیف سیکرٹری دیگر اعلیٰ افسران کی معیت میں تعمیراتی کام کا جائزہ لینے سائٹ پر آئے۔ میں بھی تعمیراتی کمپنی کی نمائندگی کے لیے موجود تھا۔

میں نے موقع غنیمت سمجھا اور چیف سیکرٹری سے کہا کہ سرونٹ بلاک کے لیے گرم پانی کی لائن کسی وجہ سے نقشے میں نہیں دی گئی۔ آپ اجازت دیں تو وہاں تک اضافی پائپ لائن بچھا دی جائے تاکہ گرم پانی کے ہمہ وقتی نظام سے چھوٹے ملازمین کو بھی سردیوں میں گرم پانی مِل سکے۔ چیف سیکرٹری کا جواب تھا "انھیں گرم پانی کی کیا ضرورت ہے”۔

اس جواب نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ پاؤں تلے سے زمین سرک گئی اور میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا "کیا وہ انسان نہیں”۔ جی چاہا ہاتھ میں پکڑی ڈائری چیف سیکرٹری کے منہ پر دے ماروں۔ میری کمپنی کے ایم ڈی انتہائی دیانت دار اور عالمی شہرت یافتہ انجینئر تھے جن کے نام سے ایٹمی ری ایکٹر کا ایک دروازہ بھی منسوب تھا۔

انھوں نے شروع ہی سے میری تخلیقی اپج والی فنی صلاحیتوں کو بھانپ لیا تھا اور میری تربیت اس انداز سے کی تھی کہ میرے اندر محض چند سالوں کے تجربہ نے پیشہ ورانہ صداقت اور وافر اعتماد پیدا کر دیا تھا۔ فکری بے خوفی پہلے ہی سے میرے مزاج کا حصہ تھی۔ میں نے جذبات پر قابو پاتے ہوئے عرض کیا کہ موسم سب انسانوں کے لیے یکساں اثرات رکھتے ہیں، وہ اعلیٰ افسران ہوں یا معمولی ملازم۔

اور پھر یہاں وہ لوگ رہیں گے جو آپ کی خدمت اور حفاظت پر مامور ہوں گے۔ ان کو دی گئی سہولیات ان کی بہتر کارکردگی کی ضمانت اور آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔ مذید یہ کہ اس پہ کوئی خاص اضافی خرچ بھی نہیں آئے گا۔ ساری عمارتوں کے لیے گرم پانی کا مرکزی نظام پہلے سے بچھا ہوا ہے جس کا ایک لُوپ سرونٹ بلاک کے قریب سے گزر رہا ہے۔ بس دو اڑھائی سو فٹ اضافی پائپ لائن کے ذریعے اس لُوپ سے ملانے کی ضرورت ہے۔

میری باتیں سن کر انہوں نے گردن اکڑاتے ہوئے فرمایا کہ آپ تعمیراتی لاگت بڑھانے کے لیے یہ تجویز پیش کر رہے ہیں، ہمیں کام نہ سکھائیں، اپنا کام کریں۔ میں اندر سے بالکل ٹوٹ چکا تھا۔ ایک آخری کوشش کے طور پر کہا کہ بنیادی مسئلہ لاگت نہیں، انسانی ہے اور اسلام آباد کی سردی ہے، سرونٹ بلاک میں رہنے والے ٹھنڈے یخ پانی سے غسل اور وضو کیسے کریں گے جب کہ ان سے محض چند فٹ کے فاصلے پر چاہے ایک آدمی بھی ٹھہرا ہو گا تو سب کی سب عمارتوں میں گرم پانی بے مصرف گردش کر رہا ہو گا، اس سے بڑی فنی کوتاہی، غلطی اور انسانی ذلت و اذیت کیا ہو گی۔

ردِعمل میں سرونٹ بلاک کے ہر کمرے میں غیر قانونی بجلی کے ہیٹر جلیں گے یا بعد میں توڑ پھوڑ کر کے واٹر ہیٹر لگانے پڑیں گے۔ اس کے بغیر چارہ نہیں۔ میرا مقصد کمپنی کے لیے اضافی کام نکالنا ہرگز نہیں۔ ہمارے پاس اتنا پائپ تو ویسے ہی بچا پڑا ہو گا جو اسکریپ میں چلا جائے گا، ہم آپ سے اس کام کے لیے کوئی اضافی بل نہیں لیں گے۔ آپ صرف ڈیزائن میں اس معمولی تجاوز کی اجازت عنایت فرما دیجیئے۔ لیکن وہ نہ مانے اور مجھے عجیب بیزاری اور غصہ بھری نظروں سے گھورنے لگے۔

ان کی طبع افسری کو یہ گوارا نہیں ہو رہا تھا کہ کوئی کمتر ان کے ساتھ بحث اور اختلاف کرے۔ وہ تو صرف یس سر سننے، حکمِ ناطق جاری فرمانے اور حاکمانہ نوٹ لکھنے کے عادی تھے۔ صوبے کے چیف انجینئر میری تجویز کو باآسانی سمجھ سکتے تھے لیکن وہ بھی چیف سیکرٹری کے سامنے خاموش رہے۔ کسی نے میرا ساتھ نہ دیا اور چیف سیکرٹری ناراضی کی حالت میں وہیں سے واپس چلے گئے۔

اس واقعہ کے بعد میرا دل بجھ گیا۔ میں شدید اداسی اور بے بسی کے احساس سے دوچار ہو گیا، اپنا آپ، دنیا، نوکری، مستقبل سب کچھ بے معنی لگنے لگا۔ جی چاہا کہ ملازمت چھوڑ کر چلا جاؤں اور اس پیشے ہی سے کنارہ کر لوں۔ کام سے جی اچٹ گیا۔ سوتے میں یوں لگتا جیسے کسی نے یخ ٹھنڈا پانی میرے اوپر انڈیل دیا ہو اور میں سردی سے کپکپا رہا ہوں۔

نارمل ہونے میں کئی دن لگ گئے اور چیف سیکریٹری نما انسانوں کے لیے ایک عجیب سی ناپسندیدگی دل میں نقش ہو گئی، جو ابھی تک کسی کونے میں جاگزیں ہے۔ سرکاری عہدے، گریڈ، حکومتی و سماجی رتبے آج بھی میرے لیے باعثِ توقیر نہیں۔ انسان اہم ہے۔ یہ حقیقی واقعہ ایک شخص کی بے حسی، بے کشفی نہیں پورے افسر شاہی نظام کی داستان ہے۔ یہ نہ سوشلزم کی بات ہے نہ اسلام کی، نہ جمہوریت کی نہ مارشل لا کی۔ نہ رجعت پرستی کی نہ ترقی پسندی کی، نہ انجینئرنگ کی نہ ٹھیکیداری کی۔ یہ انسان اور انسانیت کی بات ہے۔

لیکن اِس ملک میں بنیادی سہولتیں انسانوں اور انسانوں کی یکساں حیاتیاتی ترکیب اور ایک جیسی اساسی ضرورتوں کے لیے نہیں عہدوں اور گریڈوں کے مطابق بنائی جاتی ہیں۔ بیوروکریسی آج بھی اپنی سہولتوں اور اپنے فائدے کے علاوہ کچھ سوچنے اور کرنے نہیں دیتی۔ اس کے سوفسطائی طریقوں اور ثقیف کاریوں کے سامنے عسکری اور سیاسی قوتیں بھی ناچار ہیں اور ڈی سی کا نام بدل کر ڈی سی او رکھ سکتی ہیں اور بس، اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتیں، کوئی انقلابی تبدیلی نہیں لا سکتیں ۔

اگلے روز وزیرِ اعظم اور وزیرِ منصوبہ بندی کی سول بیوروکریسی کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی تجاویز نظر سے گزریں۔ پڑھ کر ہنسی آئی۔ سارے کا سارا فوکس بیوروکریٹس کے لیے مزید مراعات، ترغیبات، تنخواہوں میں اضافے، ملازمتوں میں توسیع اور دفتری و کلرکانہ نوعیت کے فرسودہ معاملات پر ہے۔ کہیں بھی ان کی سوچ، تربیت، روایتی طریقِ کار، حکمرانہ انداز، نو آبادیاتی طرزِ فکر اور مائینڈ سیٹ کو بدلنے کا ذکر نہیں۔

انھیں سول حکمران سےحقیقی معنوں میں سول سرونٹ بنانے کی کوئی تدبیر نہیں۔ وہ آج بھی بااختیار ہیں اور مجھ جیسے عامی آج بھی بے بس و بے اثر۔ قارئین! مَیں این ڈبلیو ایف پی ہاؤس کی تکمیل کے بعد کبھی وہاں نہیں گیا۔ اب تو شاید وہاں مجھے کوئی داخل بھی نہ ہونے دے۔ لیکن امید ہے کہ سرونٹ بلاک کے مکینوں کو گرم پانی مل گیا ہو گا کیونکہ اسلام آباد کے زمہریری سرما میں اس کے بغیر گزارا نہیں۔

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button