fbpx
کالم

تاب دان کے شعری محاسن / خرم محبوب آثم

میرا ماننا ہے کہ کسی مجموعہ پر لکھنا باعثِ سعادت امر ہے کیونکہ تخلیق کار ہمیشہ نقاد سے بڑا ہوتا ہے اِلٌا کہ نقاد خود خالق سے بڑا تخلیق کار ہو۔سو نوید ملک کے مجموعہ ”تاب دان“ پر کچھ کہنا میرے لیے باعثِ سعادت کے ساتھ ساتھ وجہء مسرت و حیرت بھی بنا ہے۔مسرت مذکورہ کلام کے محاسن دیکھ کر ہوئی اور حیرت اس بنا پر کہ آج سوشل میڈیا کے دور کی چکا چوند سے خود کو دور رکھ کر نوید ملک نے اپنے گلستانِ غزل کی ایسی آبیاری کی کہ اس کی سیر کرتے ہوئے آنکھیں تروتازہ اور دل و دماغ آسودگی میں ڈوبے رہے۔مجھے اس مجموعہ کے مطالعہ کے بعد یقین ہو چلا ہے کہ سوشل میڈیا کی برکت سے اس عہد پہ چھائے ہوئے بیشتر شعراء کے نام بھی کچھ دہائیوں بعد جب لوگوں کے اذہان سے محو ہو جائیں گے تب کچھ چنیدہ ناموں کے ساتھ نوید ملک کا نام اور معدودے مجموعاتِ غزل کےدرمیان ”تاب دان“ اپنی تاب دکھا رہا ہو گا۔نوید ملک بہت خوش نصیب ہیں جنہوں نے حقیقت کی نظر سے عہدِ حاضر کو دیکھا اور وقتی نمود و نمائش کے لیے کسی ”میڈیائی“ بیساکھی کا سہارا لیے بغیر زمانے سے بے نیاز ہو کر اپنی تخلیقات کی نمو پہ توجہ مرکوز رکھی۔سو ان کا کلام لوازماتِ شعری سے مزین دیرپا مجموعہءغزل کی صورت ظاہر ہوا۔مجموعہ کے آغاز میں ”اپنی پہلی اور آخری نثری نظم“ کے عنوان سے انہوں نے ایک نظم شامل کی۔یہ نظم پڑھ کر شاعر کی فنی دسترس کا یقین ان کی شخصیت کے ایک اور پہلو سمیت سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ نثری نظم پہ دسترس رکھنے کے باوجود انہوں نے اس کو درخورِاعتنا نہیں سمجھا۔ورنہ وہ اس صنف کی طرف مائل ہو جائیں تو نثری نظم پہ ان کے کئی مجموعے سامنے آ سکتے ہیں۔اس نظم میں انہوں نے آج کے ادبی پرورش کے ماحول میں موجود منافقانہ اور مصنوعی رویوں اور تخلیقی رشوت ستانی پر کھل کر طنز و تشنیع کی جس کے سائے تلے کئی شعراء جگمگا رہے ہیں۔

یہ نظم مجموعہ کا دیباچہ بھی ہے،ان کے ادبی کردار کی عکاس بھی اور موجودہ ادبی منظر نامے میں موجود منفی رویوں پہ ان کی جانب سے دست آویز بھی۔

”میں نے

اپنے ڈراؤنے خواب شکستہ نیندوں پر نہیں نچوڑے

جگنو ؤں کی روشنیاں اکٹھی کر کے تیرگی پر اپنے نام کا اجالا ثبت نہیں کیا

میری غزلوں کی پیدائش سے پہلے ہی کامیابیوں کی ڈکشنریاں پرنٹ نہیں ہوئیں

ایوارڈز کی قرعہ اندازیوں میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے نجومیوں کی بیعت نہیں کی

کیفیات کے نقوش کھینچنے کے لیے ناکام مصور سے بوسیدہ کینوس تحفے میں نہیں لیے“

اس کے بعد انہوں نے حمد سے اپنے مجموعہ کا باقاعدہ آغاز کیا۔جس کا سرمستی میں ڈوبا ایک شعر جو غیر اللہ کی نفی کرتا نظر آتا ہے

بس اس کی ذات میں گم ہو کے ذکر جاری رکھ

جو ہوش آئے تو پھر سے پکار اللہ ہُو

حمد کے بعد نعت شاملِ مجموعہ ہے جس کے اشعار عقیدت و محبت کے ساتھ ساتھ چونکا دینے کی بھی صلاحیت رکھتےہیں

صنم کدوں کے اندھیروں نے جب زمیں جکڑی

پکارنے لگے سارے حجر چراغ جلے

وہ دشت کیسا تھا جس پر فلک کی نظریں تھیں

وہ کیسا حجرہ تھا جس میں نڈر چراغ جلے

بعد ازاں سلام بحضور امامِ عالی مقام بھی اپنی نوعیت کا مختلف اور خوبصورت کلام ہے۔جس کےاشعار منفرد پہلوؤں سے اظہارِ عقیدت پیش کرتے ہیں

ہر سمت یہ اجالے بہتٌر کے دم سے ہیں

یعنی کسی چراغ نے رسوا نہیں کیا

محترم نوید ملک کے مجموعہ میں کمال رنگا رنگی ہے۔گویا ایک دھنک جس میں قوسِ قزح کے سبھی رنگ موجود ہوں اور ہر رنگ الگ الگ اپنی پہچان ظاہر کر رہا ہو۔اس مجموعہ میں ان موضوعات پر بھی اشعار موجود ہیں جن تک کئی شعراء کی حساس طبیعت یا باریک بینیِ نظر نہ ہونے کی بنا پر رسائی نہیں ہوتی۔مثلاً یہ دو اشعار دیکھیں۔ان اشعار میں مضافات کے پاکیزہ ماحول کے ساتھ ساتھ ان میں رہنے والوں کی صاف ستھری ذہنی عکاسی بھی بھرپور طریقے سے ہو رہی ہے

اک قبر ہے کہ جس پہ منائیں پرند عرس

اک گاؤں ہے جہاں کوئی دربار بھی نہیں

تمھارے کام شاید دوستی آئے نہ جرگے میں

ہمارے فیصلے اب تک مساواتی بھی ہوتے ہیں

جیسا کہ مضمون کے آغازمیں ذکر کیا کہ نوید ملک موجودہ ادبی ماحول میں پائی جانے والی منافقت سے نالاں ہیں جس کا اظہار انہوں نے نثری نظم کی صورت بھی کیا ہے۔ مجموعہ میں غزلیات کے اندر بھی وہ کئی جگہ اپنے باغیانہ رویے کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں

نوید ملک کی شاعری میں ان کا مزاحمتی لہجہ بارہا ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اوریہ لہجہ تو ان کا مزاج اور مان ہے جسے کسی صورت اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا

روندوں گا نوید اس کی محبت میں زمانہ

دریا کبھی بہتے ہوۓ سوچا نہیں کرتا

نوید ملک کا ایک شخصی کمال یہ بھی ہے کہ انہیں عصرِ موجود کے فنی تقاضوں اور قارئین کے ادبی ذوق کا پورا پورا پاس ہے۔ان کے کلام میں بکثرت ایسے اشعار موجود ہیں جس میں آج کے قاری کی دل بستگی کا مکمل سامان موجود ہے۔یہاں میں یہ بھی ضرور کہنا چاہوں گا کہ ان کے جدید اشعار بھی کئی شعراء کی طرح ”ہوا میں تِیر چلائیں غزل جو کہنی ہے“ کے مصداق نہیں بلکہ ان کی جدت کی جڑیں بھی روایت کی آسودہ مٹی میں پیوست ہیں۔چنانچہ ان کے ایسے اشعار انسانی ماحول سے کٹے ہوئے یا مروجہ شعری اصولوں سے ہر گز مختلف نہیں

نہیں ہے کوئی یہاں قدرداں چراغوں کا

سو اپنا لہجہ کسی موڑ پر بجھا دوں گا

شاعر میں فلسفہ بیان کرنے میں بھی از حد احتیاط درکار ہوتی ہے۔یعنی فلسفہ اگر شعر میں بیان کیا جا رہا ہے تو اولاً وہ شعر کی صحت کو متاثر نہ کرے مطلب شعر روکھا پھیکا یا سراسر ناصحانہ رنگ نہ اختیار کرے۔دوسرا شعر میں مضمون جس قدر بھی گہرا ہو شعر کا ابلاغ نہایت سہل ہونا چاہیے۔میری نظر سے کئی ایسے ”نابغے“ گزرے ہیں جو بڑا مضمون بیان کرنے کے شوق میں شعر کو اس قدر گنجلک بنا دیتےہیں کہ قاری محض شعر کے دروبست میں ہی الجھا رہ جاتا ہے۔خوش قسمتی سے”تاب دان“ میں فلسفہ سے مزین اشعار میں شعریت عنقا نہیں۔بلکہ ایسے خوب پیرائے میں مدعا بیان کیاگیا ہے کہ پیغام بھی پہنچ جائے اور ذوقِ جمالیات کے ماتھے پہ بھی شکن نہ آئے

حیران ہوں کہ دل میں وہ اتری ہے کس طرح

خواہش جو ذائقے میں مزیدار بھی نہیں

یوں تو شاعری میں روزمرہ کے الفاظ یا محاورات کا استعمال بھی درحقیقت کارِ دشوار ہے۔کیونکہ عام بول چال کے لفظ کو مصرع میں یوں کھپانا کہ وہ مصرع کے مزاج کا حصہ معلوم ہو ہر گز آساں نہیں چہ جائیکہ اپنے علم و وجدان کو استعمال میں لا کر نہ صرف نیا لفظ تخلیق کرنا بلکہ اسے شعر میں استعمال بھی کرنا اس میں دانتوں پسینہ آ جاتا ہے اور نوید ملک اس میں بہت کامیاب رہے ہیں۔

بکھری پڑی ہیں کتنی محبت کی فائلیں

ہم کو یہ سارا کام مکانا پڑا تو پھر

اور ذرا ان اشعار کی انفرادیت ملاحظہ ہو شاعر نے کس طرح شعر میں پیش ردہ مضمون کو اچانک پلٹا دے کر سوچ کا ایک نیا رخ پیش کیا ہے۔ایسا رخ جو قاری کے وہم و گماں میں بھی نہ ہو۔چنانچہ کچھ دیر مبہوت رہنے کے بعد وہ بے ساختہ عش عش کر اٹھے۔ایسے اشعار آپ کو شاعری کی دنیا میں کم کم دیکھنے کو ملیں گے

نوید ایسے گزاری زندگی گوشہ نشینی میں

کہ جیسے مر کے بھی دنیا دوبارہ دیکھ سکتا ہوں

درمیاں ہمارے اب چار پانچ صحرا ہیں

قربتیں مٹانے کو فاصلہ مناسب ہے

نوید ملک کو اپنی ذات اور شاعری پر بے حد اعتماد ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ جیسے شعری محاسن ان کے کلام میں پائے گئے ہیں کم کم کسی کے حصے میں آتے ہیں۔انہیں علم ہے کہ انکی ریاضت بیکار ہر گز نہیں جائے گی ان کا کلام دیر پا اور پر اثر ہے چنانچہ ان مباہات کا اظہار ان کی شاعری میں بھی نمایاں نظر آتا ہے

میں قدم جب بھی اٹھاتا ہوں سفر بنتے ہیں

کئی رستے میرے ہونے سے ادھر بنتے ہیں

اک صدا دی تو زمانے نے مجھے دیکھ لیا

وہ بھی ہو جائے گا بیدار کوئی بات نہیں

میں نے اس مختصر مضمون کے ذریعے کوشش کی کہ محترم نوید ملک کی شاعری کے محاسن سمیٹ سکوں مگر مجھے اعتراف ہے کہ ان کی شاعری اسقدر متنوع ہے کہ قلتِ وقت کے پیشِ نظر بیسیوں موضوعات چھوڑنے بھی پڑے۔اس مجموعہءگلستانِ شعر سے چند پھولوں کی باس آپ تک پہنچانے کی سعی کی ہے باقی قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس چمن کی سیر کریں اور قلب و نظر کو اس سخن کی خوشبو مہیا کریں۔ چند اشعار کا انتخاب آپ کے ذوق ِ سخن کی نذر کرتے ہوئے دعا ہے کہ مالکِ حرف میرے ان محترم شاعر کی توفیقات میں دائم برکتوں کا نزول رکھے .

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button