fbpx
تبصرہ کتب

کتاب "میٹھے نلکے ” / تبصرہ : محمد حمید شاہد

نجیبہ کی کہانیوں میں کہیں بے ریڑھ آدمی امیبا بنتا ہے اور کہیں دہشت اور مایوسی کو پرے دھکیلتے بچے ڈرم پیٹنے لگتے ہیں۔ یہاں وقت گزر رہا ہے اور میٹھے نلکوں کا پانی کڑواکسیلا ہورہا ہے۔جنہیں بچپن میں بولنا اور لکھنا پڑھنا سکھایا گیا تھا وہ اپنی زندگیوں میں رُجھ کرسننا بھول چکے ہیں

میٹھے نلکے
افسانے
ڈاکٹر نجیبہ عارف
سرورق، اسکچز ۔مومنہ عارف
اکادمی بازیافت ، کراچی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہنے کو”میٹھے نلکے” نجیبہ عارف کے فکشن کا پہلا مجموعہ ہے مگر میری نظر میں یہ اُن کی اس زمرہ کی دوسری کتاب ہے۔ نجیبہ عارف کی تصانیف کی فہرست طویل ہے اور اُن کی توفیقات کا علاقہ وسیع۔ تنقیدو تحقیق،ادارت و تدوین، فکر و نظر، نظم و غزل ، ترجمہ و تعبیر ، تصوف و حکمت، تعلیم و تعلم ؛ غرض کون سا شعبہ ہے جس میں اُنہوں نے اپنی دانش اور لیاقت کا نقش نہ جمایا ہوگا۔ مگر بات فکشن کی ہورہی ہے اور میرا اشارہ اُن کی بالکل الگ دھج کی تصنیف "راگنی کی کھوج میں”کی طرف تھا۔ نجیبہ عارف نے اگرچہ اپنی اس کتاب کو فکشن کہہ کر پیش نہیں کیا مگر جس دلنشیں اسلوب میں انہوں نے اپنے باطنی وجود اور محسوسات کو اپنے مرشد کی حیات اور تاہنگ میں بہم کرکے متن کیا ہےاورسطر سطر میں عجب طرح کے بھید، متحرک سائے ،روشنی کی لکیریں اور انسانی باطن میں رواں لہروں اور جنبشوں کو گوندھ کر متن کو جادو اثر بنا لیا ہے ؛ ایسا تو فکشن ہی میں ہوا کرتا ہے ۔


"میٹھے نلکے” اس تخلیق کار کا اگلا قدم ہے ۔ زندگی کوبرتنے، پرکھنے اور بھوگنے کے بعدکا اگلا قدم ۔ انہوں نے کچھ سوالات کے مقابل ہوکر دانش بھرے فن پارے تخلیق کیے ہیں۔ یہ سوالات انسانی وجود کے ساتھ چپکے ہوئے ہیں، یوں جیسے کاغذ کے پرزے کی ایک سطح سے دوسری سطح ۔آپ انہیں کاٹ پھاڑ کر الگ نہیں کر سکتے ۔ کافکا کا گریگر سمسا کاکروچ بن گیا تھا اور نجیبہ کی کہانیوں میں کہیں بے ریڑھ آدمی امیبا بنتا ہے اور کہیں دہشت اور مایوسی کو پرے دھکیلتے بچے ڈرم پیٹنے لگتے ہیں۔ یہاں وقت گزر رہا ہے اور میٹھے نلکوں کا پانی کڑواکسیلا ہورہا ہے۔جنہیں بچپن میں بولنا اور لکھنا پڑھنا سکھایا گیا تھا وہ اپنی زندگیوں میں رُجھ کرسننا بھول چکے ہیں ۔ شہر تیزی سے اپنی شباہت بدل رہے ہیں۔ گلیاں اجنبی ہو رہی ہیں اور ان میں سے ہراس اُمنڈا پڑتا ہے۔ عورت کا گچھم گچھا وجود مرد کی بے حسی کی آگ میں جل کر راکھ ہو رہا ہے۔ گویا ایک ڈرائونی فلم چل رہی ہے ۔ عجب زندگی ہے رائیگانی کے کیچڑ میں لتھڑی ہوئی۔سو برس بعد شاید یہ رائیگانی کا احساس بھی نہ ہوگا۔ ماضی اور حال سے معاملہ کرتی اور مستقبل کی تصویر دکھاتی نجیبہ عارف کی کہانیوں میں نئے آدمی کے اصل مرض کی تشخیص ہے اور اندر اور باہر سے دولخت زندگی کو معنویت عطا کرنےکے راز بھی۔ یوں یہ محض وقت گزارنے کو پڑھی جانے والی کہانیاں نہیں ہیں ۔ یہ تو انسانی وجود کے مراتب کی مشکوٰۃ ہیں۔جی، ایساطاقچہ جس پر زندگی کا روشن چراغ رکھا ہوا ہے۔

Facebook Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button