fbpx
خبریں

سائفر کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 نومبر تک عدالتی کارروائی روک دی

سابق وزیراعظم عمران خان کی سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جیل ٹرائل پر حکم امتناع میں 20 نومبر تک توسیع کر دی۔

اس سے قبل عدالت نے منگل کے روز 16 نومبر تک سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کا حکم دیا تھا جس میں آج مزید چار دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔

گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس کے سنگل بینچ کا تحریری فیصلہ جاری ہوا تھا جس میں سائفر کیس میں ٹرائل کورٹ کو چار ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔

اس قانونی نکتے پر سابق جج شاہ خاور نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرائل کورٹ پر ڈویژن بینچ کے فیصلے کا اطلاق ہو گا، چیف جسٹس کی جانب سے ٹرائل مکمل کرنے کا حکم سنگل بینچ کا حکم ہے جبکہ ٹرائل پر حکم امتناع دو رکنی بینچ کا حکم ہے لہذا ٹرائل کورٹ ڈویژن بینچ کے فیصلے پر عمل کرے گی۔‘

آج کی سماعت میں اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’سب سے پہلے تو میری رائے میں یہ انٹرا کورٹ اپیل قابل سماعت ہی نہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو جان کے خطرے کے پیش نظر جیل ٹرائل کا نوٹی فکیشن ہوا، چیئرمین پی ٹی آئی اٹک جیل میں تھے تو اس وقت پہلے جیل ٹرائل کا نوٹی فکیشن ہوا، دو اکتوبر کو سائفر کیس کا چالان جمع ہوا، 23 اکتوبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔

’شاہ محمود قریشی نے جیل ٹرائل کے بجائے ریگولر کورٹ میں سماعت کی استدعا کی تھی، یہ درخواست مسترد کی گئی اور ہائی کورٹ نے بھی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹائی، ایک ملزم کا جیل ٹرائل ہو تو اسی کیس کے دوسرے ملزم کا الگ ٹرائل نہیں ہو سکتا، میں نے پیپر بک جمع کرائی ہے جس میں کابینہ کی منظوری سمیت دیگر متعلقہ دستاویزات ہیں، لہٰذا ہماری استدعا یہ ہے یہ انٹرا کورٹ اپیل قابل سماعت نہیں ہے۔‘

یہ نکات سن کر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کے وکیل کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ’راجہ صاحب آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ اس کیس کو اس عدالت سے نکالنا چاہتے ہیں۔‘

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’ہم اٹارنی جنرل کی طرف سے اٹھائے گئے نکات پر جواب دیں گے، عدالت نے گذشتہ سماعت پر جو دستاویزات طلب کی گئی تھیں وہ جمع نہیں کرائی جا رہیں۔ شاہ محمود قریشی کی جیل ٹرائل کے خلاف درخواست کا اس کیس سے کچھ لینا دینا نہیں، جیل ٹرائل سے متعلق تمام عمل انتظامیہ سے متعلقہ ہے، اس کی دستاویزات طلب کی گئی تھیں۔‘

جمعرات کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی دو رکنی ڈویژن بینچ میں شامل ہیں۔ عدالت نے سائفر کیس کے جیل ٹرائل پر آج تک حکم امتناع جاری کر رکھا تھا۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت پیش ہوئے جبکہ عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور لیگل ٹیم کے ارکان بھی عدالت میں حاضر ہوئے۔

سلمان اکرم راجہ نے سماعت کے آغاز میں نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’میں بتانا چاہتا ہوں کہ گذشتہ سماعت پر آرڈر کے بعد کیا ہوا، میں فوری اڈیالہ جیل پہنچا جہاں جیل ٹرائل جاری تھا، مجھے کافی دیر انتظار کے بعد اندر جانے کی اجازت ملی اور ایک گواہ کا بیان بھی ہو چکا تھا، ٹرائل کورٹ نے حکم امتناع کے بعد بھی ساڑھے تین بجے تک سماعت جاری رکھی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس پر سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے وضاحت کی کہ ’جب عدالت کو سٹے آرڈر کا بتایا گیا تو ٹرائل روک دیا گیا تھا۔‘

گذشتہ سماعت پر عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل مکمل ہو گئے تھے، اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا، ’راجہ صاحب نے اپنے دلائل دے دیے، اب عدالت کو سوالات پر مطمئن کرنے کی کوشش کروں گا۔ پہلے تو اس درخواست کے قابل سماعت ہونے معاملے پر عدالت کی معاونت کروں گا۔‘

اٹارنی جنرل نے شاہ محمود قریشی کی درخواست پر چیف جسٹس عامر فاروق کا فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ ’سنگل بنچ نے لکھا کہ جیل ٹرائل بھی اوپن ٹرائل ہونا چاہیے۔‘

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ’اٹارنی جنرل صاحب ہم توقع کرتے ہیں کہ آپ نے ہمارا گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھا ہو گا، اوپن ٹرائل کا مطلب اوپن ٹرائل ہے وہ ہر ایک کے لیے اوپن ہو ہمیں جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن اور  ان کا سارا پراسس بتائیں، ہم چاہیں گے کہ اس بنچ کو ویسے ہی مطمئن کیا جائے جیسے سنگل بنچ کو کیا۔‘

جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیے کہ ’شاہ محمود قریشی کی درخواست پر فیصلہ کے بعد شاید انٹرا کورٹ اپیل آجائے، شاہ محمود قریشی کی انٹرا کورٹ اپیل آتی ہے تو متعلقہ بنچ اس کو دیکھ لے گا، جب چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ آیا تب وہ اٹک جیل میں تھے، اٹک جیل سے عدالت میں پیش کرنے کے لیے سکیورٹی مسائل ہو سکتے تھے، عمران خان کو اب اڈیالہ جیل منتقل کیا جاچکا ہے، سیچوئشن بدل چکی ہے، آپ نے یہ بتانا ہے کہ وزارت قانون کے جاری کردہ این او سی کو کس پراسس کے تحت جاری کیا گیا۔‘

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے مزید کہا کہ اس کیس میں جو سیکشن لگی ہے اس کے مطابق درخواست گزار کو سزائے موت ہو سکتی ہے، یا وہ ساری زندگی جیل میں گزار سکتے ہیں۔‘

اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’جی معلوم ہے مگر میرا نہیں خیال کہ سزائے موت ہو۔‘

جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے استفسار کیا کہ ’کہا گیا ہے کہ جیل میں کورٹ دس بائی دس کے کمرے میں لگائی گئی؟‘

سپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ’جیل میں جو پہلے کورٹ روم تھا وہاں صرف 15 سے 16 افراد کی گنجائش تھی۔‘

اٹارنی جنرل نے بھی وضاحت کی کہ ’سائفر کیس میں جیل ٹرائل اوپن ٹرائل ہے، جیل ٹرائل اور ٹرائل کے دوران پبلک کی عدم موجودگی دو مختلف باتیں ہیں، کابینہ کی منظوری سے پہلے دو اہم ایونٹس ہوئے، سات نومبر کو تین ،چودہ نومبر کو دو گواہان کے بیان ریکارڈ کئے گئے، کورٹ روم چھوٹا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کم افراد کی گنجائش کے باعث وہ کلوز ٹرائل ہے، اب جیل میں کورٹ پروسیڈنگ اور ٹرائل کے لیے پہلے کی نسبت بڑا کمرہ مل گیا ہے۔‘

عدالت نے مزید دلائل کے لیے سماعت پیر تک ملتوی کر دی اور کہا کہ پیر کے روز کیس کی سماعت کو مکمل کر دیں گے۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button