fbpx
خبریں

ڈیرہ اسماعیل خان میں تھانے پر شدت پسندوں کے حملے میں 10 اہلکار جان سے گئے: پولیس

خیبرپختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس کا کہنا ہے پیر کی صبح ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل داربن میں تھانے پر شدت پسندوں کے حملے میں دس پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ چھ زخمی ہو گئے۔

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے مطابق رات تین بجے نامعلوم حملہ آوروں نے بھاری ہتھیاروں سے پولیس تھانے پر حملہ کیا۔

پولیس کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے پولیس سٹیشن چودہوان پر پولیس کے مطابق شدت پسندوں کے حملے میں 10 پولیس اہلکار جان سے گئے ہیں جبکہ چھ زخمی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

متعلقہ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او خالد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’شدت پسندوں کی جانب سے گذشتہ شب تقریبا پونے تین بجے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا ہے۔‘

پولیس کے مطابق ’حملہ آوروں نے جدید اسلحے اور دستی بموں سے حملہ کیا اور پولیس کے ساتھ ایک گھنٹے سے زائد تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ‘یہ پولیس سٹیشن ڈی آئی خان شہر سے تقریبا 100 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔‘

ان کے مطابق ’لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے اور پولیس لائن میں جنازہ ادا کیا جائے گا۔‘

ڈیرہ اسماعیل خان شدت پسندی کے لحاظ سے شمالی و جنوبی وزیرستان کے بعد صوبے کا تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے۔

محکمہ داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق ڈی آئی خان میں 2023 میں مجموعی طور پر 98 شدت پسندی کی کارروائیاں ہوئی ہیں جس میں سکیورٹی فورسز کے 21 اہلکار جان سے گئے۔

نگران وزیرداخلہ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں تھانے پر حملے کی مذمت کی ہے۔

وزارت داخلہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’وزیر داخلہ نے حملے میں 10 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button