fbpx
خبریں

عبدالباسط خان | انتخابات سے قبل بلوچستان کی سکیورٹی صورت حال

آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات سے قبل بلوچستان کی سکیورٹی صورت حال کشیدہ ہے اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں نے صوبے کے مختلف حصوں میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔

مثال کے طور پر گذشتہ چند دنوں میں علیحدگی پسند گروہوں نے قلعہ عبداللہ میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ایک کارکن کو قتل کرنے سمیت کوئٹہ اور کیچ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدواروں میر ظہور بلیدی اور علی مدد جتک کی رہائش گاہ اور انتخابی مہم کو نشانہ بنایا۔

اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اسلم بلیدی کو 10 جنوری کو ضلع تربت میں علیحدگی پسندوں نے نشانہ بنایا۔ 15 اور 17 جنوری کو علیحدگی پسندوں نے خاران میں پولنگ عملے کے تربیتی سیشن اور تربت میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اصغر رند کی رہائش گاہ پر دستی بموں سے حملہ کیا جس کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ضلعی انتظامیہ نے سیاسی رہنماؤں پر حملوں کے حوالے سے امیدواروں کو سکیورٹی ایڈوائزری جاری کی۔

 یہ حملے کر کے علیحدگی پسند گروپوں نے آٹھ فروری کو رائے دہندگان کو پولنگ سٹیشنوں پر آنے سے روکنے کے لیے خوف اور دہشت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ 

انتخابات کے خلاف بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے تشدد میں حالیہ اضافہ ماضی کے رجحانات سے مطابقت رکھتا ہے جس میں دہرے مقصد کے ساتھ انتخابی عمل میں خلل ڈالا گیا۔

 سب سے پہلی بات یہ کہ علیحدگی پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں بلوچستان میں ووٹروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے جس سے انتخابات کی قانونی حیثیت اور ان سے سامنے آنے والے سیاسی سیٹ اپ کو نقصان پہنچتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ بالواسطہ طور پر علیحدگی پسند ووٹروں کی تعداد میں کمی لا کر مقامی آبادی پر اپنا اثرورسوخ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 اس طرح بلوچ علیحدگی پسند انتخابی ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھرتیاں، پروپیگنڈا اور فنڈ اکٹھا کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے تین فروری کو ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ووٹ نہ دیں۔‘

اس سے قبل آٹھ جنوری کو ایکس پر ایک پیغام میں انہوں نے لکھا ’کوئی ووٹ نہیں، صرف آزادی۔‘

 اس طرح کے پیغامات ریاست مخالف بیانیہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا مقصد علیحدگی پسند جدوجہد کے لیے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا ہے۔

ماضی میں علیحدگی پسند گروہوں نے وفاق نواز بلوچ قوم پرست جماعتوں جیسے نیشنل پارٹی (این پی) اور بلوچ نیشنلسٹ موومنٹ (بی این ایم) کو انتخابی عمل میں حصہ لینے اور بلوچستان کے سماجی و اقتصادی مسائل کے حل اور گہرے نسلی تحفظات کو دور کرنے کے لیے مسلح بغاوت کی بجائے سیاسی مکالمے کو ترجیح دینے پر نشانہ بنایا۔

اسی طرح پاکستان کی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں بھی انتخابی موسم کے دوران صوبے میں علیحدگی پسندوں کے تشدد کا نشانہ بن چکی ہیں جیسا کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کی انتخابی مہم پر حالیہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے۔

انتخابات سے قبل پرتشدد حملوں کا علیحدگی پسندوں کا طریقہ کار 2023 میں نواب اکبر بگٹی اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سابق سربراہ اسلم بلوچ کی برسی اور یوم آزادی کے موقعے پر نظر آنے والے ہتھکنڈوں سے مماثلت رکھتا ہے۔

ان تمام مواقع پر علیحدگی پسندوں نے توجہ اور شہرت حاصل کرنے کے لیے حملوں میں اضافہ کیا۔ حملوں سمیت علیحدگی پسندوں نے اس بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کی کہ انتخابات اور انتخابی عمل سے ابھرنے والی سیاسی قیادت بلوچستان کے دیرینہ مسائل کے حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی بلکہ ریاست کی من مانی پالیسیوں کے فروغ کا ذریعہ ثابت ہوتی ہیں جن میں جبری گم شدگیاں اور سیاسی عمل سے دور رکھنا بھی شامل ہے۔

بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے علاوہ داعش خراسان نے بھی جمہوریت کے خلاف اپنی نام نہاد جنگ کے حصے کے طور پر بلوچستان میں انتخابی ریلیوں کو دھمکیاں دیں اور انہیں نشانہ بنایا۔

 مثال کے طور پر دہشت گرد گروپ نے سبی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ریلی کو موٹر سائیکل بم سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں چار افراد کی جان گئی اور متعدد زخمی ہو گئے۔

اس کے ساتھ ساتھ اس گروپ نے پروپیگنڈا ویڈیوز کے ذریعے جمہوریت مخالف بیان بازی میں اضافہ کیا۔ 

یکم اور دو فروری کے درمیان اس گروپ نے دو ویڈیوز جاری کیں جن میں جمہوریت کو غیر اسلامی قرار دیا گیا اور لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر خبردار کیا گیا۔

اس سے قبل داعش خراسان نے ستمبر 2023 میں بلوچستان کے ضلع مستونگ میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) کے رہنما حافظ حمد اللہ کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں وہ بال بال بچے۔

اسی طرح 2018 میں داعش خراسان نے جنوب مغربی شہر درین گڑھ میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کی انتخابی ریلی کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم 129 افراد جان سے گئے۔

حالیہ مہینوں میں داعش خراسان کو افغانستان میں طالبان حکومت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی بچی کھچی زیادہ تر قیادت پاکستان منتقل ہو چکی ہے جہاں وہ بقا اور اہمیت کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔

داعش کی قیادت نے پاکستان میں الیکشن سیزن کو ناصرف جمہوریت کے خلاف اپنی پروپیگنڈا جنگ کو بڑھانے کے موقعے کے طور پر منتخب کیا بلکہ افغانستان میں اپنے ٹوٹ جانے کے تاثر کو دور کرنے کے لیے سیاسی ریلیوں اور انتخابی مہم کو بھی نشانہ بنایا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ وہ پاکستان میں انتخابی جلسوں اور مہم پر حملے نہیں کرے گی۔

یہ بیان صرف سکیورٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کی  حکمت عملی سے مطابقت رکھتا ہے۔

تاہم تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار نے ایک جوابی بیان کے ذریعے جمہوریت اور انتخابات کے بارے میں ٹی ٹی پی کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس کے ساتھ ساتھ تحریک جہاد پاکستان (ٹی جے پی) اور انصار الاسلام جیسی نئی عسکریت پسند تنظیموں کے ابھرنے کے پیش نظر بلوچستان میں انتخابی جلسوں پر دیگر جہادی تنظیموں کی جانب سے حملوں کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹی ٹی پی گذشتہ چند ہفتوں سے عوامی سطح پر ایسے حملوں کا دعویٰ نہیں کر رہی جس کا مقصد بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی ریلیوں پر اس کے حملوں کو چھپانا ہو سکتا ہے۔

ٹی جے پی نے 2023 میں بلوچستان میں مضبوط قدم جما لیے ہیں لیکن اس کے تمام حملے سکیورٹی فورسز کے خلاف تھے۔ لہٰذا یہ دیکھنا باقی ہے کہ داعش خراسان کے علاوہ دیگر مذہبی شدت پسند گروہ انتخابی ریلیوں پر حملے کرتے ہیں یا نہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان کے ضلع مستونگ، خضدار، تربت، آواران، گوادر، خاران اور پنجگور میں دو ہزار 38 پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے الیکشن کمیشن کے دو فروری کو ہونے والے اجلاس میں واضح کیا گیا کہ سکیورٹی خطرات کے باوجود دونوں صوبوں میں انتخابات کرائے جائیں گے۔

آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کے بعد اسلام آباد اور بلوچستان کی نئی حکومتوں کو خطرات پر قابو پانے کے لیے موجودہ سکیورٹی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی تاکہ دیرینہ مسائل بالخصوص جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔

مضمون نگار سنگاپور کے ایس راجرتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ ایکس: @basitresearcher

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button